ذوق سلیم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کسی چیز یا بات کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کی حسن و خوبی کا اندازہ کرنے کا صحیح ملکہ، صحیح ذوق۔ "نشریاتی جنگ میں کوئی بات ذوقِ سلیم کے خلاف ریڈیو کی لہروں پر نہیں جائے گی۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٥٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'ذوق' کو کسرۂ صفت کے ذریعے عربی ہی سے مشتق صفت 'سَلِیم' کے ساتھ ملانے سے مرکب توصیفی بنا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٩١٥ء کو "فلسفہ اجتماع" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی چیز یا بات کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کی حسن و خوبی کا اندازہ کرنے کا صحیح ملکہ، صحیح ذوق۔ "نشریاتی جنگ میں کوئی بات ذوقِ سلیم کے خلاف ریڈیو کی لہروں پر نہیں جائے گی۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٥٢ )

جنس: مذکر